اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان

اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان اسلامی پوسٹ اور وڈیو بیانات کے لئے ہمارے پیج کو فالو کیجیے
جزاک اللہ
(407)

اشاعت التوحید والسنہ پاکستان ایک خالص دینی جماعت ہے جس کا منشورقرآن و سنت کی ترویج اور شرک و بدعات کے در ہے ، درس قرآن مجید اس جماعت کا طرہ امتیاز ہے

05/07/2026
شوقِ دیدِ ارضِ مقدس کا ایک حسین شاہکار! جامع مسجد اقصیٰ سنگوالہ (تلہ گنگ) کا یہ عالی شان گنبد، جو ہمیں بیت المقدس کے تقد...
05/07/2026

شوقِ دیدِ ارضِ مقدس کا ایک حسین شاہکار! جامع مسجد اقصیٰ سنگوالہ (تلہ گنگ) کا یہ عالی شان گنبد، جو ہمیں بیت المقدس کے تقدس اور خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔"

آج کی اچھی بات 🌷
05/07/2026

آج کی اچھی بات 🌷

جو عزت ملی ہے، وہ ربِّ کریم کا انعام ہے،حسد کرنے والوں سے حفاظت بھی اُسی کا اہتمام ہے۔💯 اللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ ...
03/07/2026

جو عزت ملی ہے، وہ ربِّ کریم کا انعام ہے،
حسد کرنے والوں سے حفاظت بھی اُسی کا اہتمام ہے۔💯
اللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ، وَاحْفَظْنِي مِنْ شَرِّ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَائِنٍ۔

میں ایک بار دفتر سے گھر واپس ایا تو میرے پاس کھانے کی کوئی چیز تھی میں وہ سیدھی اپنے کمرے میں لے ایا مگر پھر نہ جانے میر...
02/07/2026

میں ایک بار دفتر سے گھر واپس ایا تو میرے پاس کھانے کی کوئی چیز تھی میں وہ سیدھی اپنے کمرے میں لے ایا مگر پھر نہ جانے میرے دل میں ایسی کون سی دلیل اگئی کہ میں نے اس چیز کو ویسے ہی اٹھایا اور اپنی والدہ کے پاس چلا گیا اپنی والدہ کے پاس بیٹھ کر اسے کھولا کاٹا والدہ کو کھلایا خود بھی کھایا جب میری والدہ کا پیٹ بھر گیا تو میں وہ چیز لے کر واپس اپنے بیوی بچوں کے پاس ا گیا میری حرکت میری بیوی کو بہت ناگوار گزری اسی بات کو لے کے ہم دونوں میاں بیوی میں بحث مباحثہ ہو گیا خیر باتوں باتوں میں میری بیوی نے مجھے گنوانا شروع کر دیا کہ وہ میرے لیے کتنی تکالیف برداشت کرتی ہے اور کتنی قربانیاں دیتی ہے اخر میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ اج تک تمہاری ماں نے تمہاری خاطر کوئی قربانی دی ہے اس کا یہ سوال مجھے چبھنے لگا مگر میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا میرے ذہن میں نہیں تھا کہ میری والدہ نے میرے لیے کون سی ایسی قربانی دی ہو جس کا میں یہاں ذکر کر سکوں میں تھوڑی دیر خاموش رہا خاموشی سے اپنے کمرے سے نکل گیا اور اپنی والدہ کے پاس جا پہنچا اب اسے میری غلطی کہیں یا نادانی کے جو سوال میری بیوی نے مجھ سے کیا تھا میں نے وہ سوال جا کر اپنی والدہ سے کر دیا

جب میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ اج تک انہوں نے میری خاطر ایسی کون سی قربانی دی ہے جسے میں ہمیشہ یاد رکھ سکوں تو میرا سوال سن کر میری والدہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی یہاں تک کہ میں نے ان کے چہرے کے ساتھ ساتھ ان کی انکھوں کا رنگ بدلتا ہوا بھی دیکھا یقینا وہ سارے دکھ اور قرب ان کے چہرے اور انکھوں پر سما گئے تھے جو درد انہوں نے میری خاطر اٹھائے تھے وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر میرے سوال کو ٹالنا چاہا لیکن جب میں بضد رہا تو انہوں نے مجھے میرے بچپن کا ایک قصہ یاد دلایا
ایک سائیکل جو میں نے بچپن میں خریدی تھی ہوا کچھ یوں تھا کہ میری والدہ کی صحت خراب تھی اور میں چھوٹا تھا میں اس عمر کو نہیں پہنچا تھا کہ گھر میں اکیلا رہ سکتا اور میری والدہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جا سکتیں لہذا جہاں تک ممکن تھا وہ اپنی تکلیف کو برداشت کرتی رہی اور گھر میں میرے ساتھ رہیں مگر جب ان کی تکلیف حد سے زیادہ بڑھ گئی اور برداشت کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے مجھے پڑوس کے گھر میں چھوڑا اور خود دوائی لینے کے لیے باہر نکل گئی مگر میں بچوں کی مانند وہاں رونے لگا تو میری والدہ لوٹ ائی دروازہ کھولا مجھے ساتھ لیا اور دوا خریدنے چلی گئیں مجھے یاد ہے کہ میری والدہ مجھے اٹھا کر مین روڈ تک ائی تھی اگر میں اج بھی صحت مند ہوتے ہوئے اپنی والدہ اٹھا کر روڈ تک لے جانا چاہوں تو شاید نہیں لے جا پاؤں گا لیکن تب میری والدہ سے خود اپنا بوجھ اٹھایا نہیں جا رہا تھا چلا تک نہیں جا رہا تھا مگر وہ مجھے اٹھا کر سڑک تک لائی تھی پھر مجھے اپنے ساتھ بازار لے گئیں وہاں ایک سرکاری ہسپتال تھا ہم لوگ وہاں گئے میری والدہ نے وہاں سے اپنا چیک اپ کروایا انہوں نے میری والدہ کو کچھ ادویات لکھ کر دیں جو ہمیں باہر سے خریدنا تھیں اب اس بات کو میری خوش قسمتی کہیں یا میری والدہ کی بدقسمتی جہاں سے ہم نے ادویات خریدنا تھی اس کے قریب ایک بچوں کے کھلونے والی دکان تھی وہاں پر بچوں کی چھوٹی چھوٹی سائیکلیں رکھی ہوئی تھیں میں نے اپنی والدہ سے ضد کرنا شروع کر دی کہ مجھے سائیکل خریدنی ہے میری والدہ نے مجھے ٹالنا چاہا مجھے بہلایا مگر میں اپنی ضد پر اڑا رہا تب میں بچہ تھا مجھے پتہ نہیں تھا کہ میری والدہ کے پاس اتنی رقم ہی ہے جس سے وہ اپنی دوا خرید سکتی ہیں مگر جب میں کسی بھی صورت میں چپ نہ ہوا تو میری والدہ نے مجھے ساتھ لیا اور سائیکل والی دکان پر چلی گئی انہوں نے وہاں سے مجھے ایک مناسب قیمت پر سائیکل خرید کر دے دی میری والدہ کے پاس موجود رقم سائیکل کی قیمت ادا کرنے میں بھی کم تھی انہوں نے جیسے تیسے کر کے دکاندار کی منت سماجت کر کے کچھ پیسوں کوا ادھار کر لیا اب ان کے پاس دوا خریدنے کی رقم باقی نہیں تھی مجھے یاد ہے اس روز میری والدہ مجھے اور میری سائیکل دونوں کو اٹھا کر پیدل گھر تک ائی تھیں
پھری میری والدہ نے مجھے مزید یاد دلایا کہ صرف تمہیں سائیکل خرید کے دینے کی وجہ سے مجھے تمہارے والد سے مار پڑی تھی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ میں نے پیسوں کو ضائع کیا ہے یہ تمہاری خاطر نہ تو میری کوئی پہلی قربانی تھی اور نہ ہی کوئی اخری اگر مجھے اج بھی تم سے اپنا اپ وار کے قربان کرنا پڑے تو میں کر دوں گی لیکن کبھی اپنی بیوی سے بھی پوچھنا کہ وہ تمہارے لیے کیا کچھ قربان کر سکتی ہے

وہ تمہاری بیوی ہے وہ تمہارے لیے اگر قربانی دے گی بھی تو اپنی اولاد کی خاطر دے گی جس طرح میں نے تمہارے باپ سے مار کھائی تھی اس میں میری غلطی نہیں تھی مگر تمہاری خاطر میں نے کھا لی تھی عورت اپنی اولاد کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتی ہے
میں تمہیں یہ نہیں کہتی کہ تمہاری بیوی تمہارے لیے کچھ نہیں کرتی وہ تمہارے تمام حقوق ادا کرتی ہے لیکن میں تمہیں یہ ضرور کہتی ہوں کہ کبھی بھی اپنی بیوی کو اپنا امام مقرر نہ کرنا جہاں بیوی غلط ہو اسے غلط کہنا اور جہان باقی رشتے غلط ہوں وہاں باقی رشتوں کو غلط کہنا تم نے فقط ایک قربانی کے لیے پوچھا تھا تو میں نے تمہیں بتا دیا ہے اور میں اس جیسی کئی قربانیاں تمہارے لیے دے چکی ہوں البتہ مجھے اس بات کا افسوس ہے تم نے یہ سوال اپنی ماں سے کیا ہے تمہاری جگہ کوئی بھی اولاد اگر اپنی ماں سے یہ سوال کرے گی تو اس کی ماں کو دکھ ضرور ہوگا کوشش کرنا ائندہ ایسا کوئی سوال مجھ سے نہ کرو میری والدہ نے اپنی بات مکمل کی تو ان کی انکھیں نم ہو چکی تھیں میں نے ان کو اپنے سینے سے لگایا ان کی انکھوں کو بوسہ دیا مگر جب میں واپس ایا تو میری نظروں سے میری بیوی کا معیار بہت گر چکا تھا اور ساتھ میرا اپنا بھی مجھے اس بات پر بہت ملال تھا کہ مجھے میری ماں سے یہ سوال کبھی نہیں کرنا چاہیے تھا
میں یہ کہانی پڑھنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے والدین نے ہمارے لیے جتنی قربانیاں دی ہوتی ہیں ہماری اولاد اور بیوی اس کا عشر عشیر بھی قربان نہیں کر سکتے اس لیے کبھی بھی اپنی والدین سے ان کی قربانیوں کا حساب نہ مانگنا شکریہ
اختتام

ان شاءاللہ
02/07/2026

ان شاءاللہ

Address

Talagang

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان:

Share